بلکہ رشتے داروں اور دوست احباب تک کے روشن احکام بیان فرمائے گئے ہیں،اسلام ہمیں ترکِ دنیا اور رہبانیت اختیار کرنے سے منع کرتے ہوئے والدین اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ بھلائی اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم فرماتا ہے چنانچہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اسلام میں ترکِ دنیا نہیں ۔ (1)
حضرت سیِّدنا ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اہلِ یمن میں سے ایک شخص ہجرت کرکے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضر ہوا تو رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا: کیا یمن میں تمہارا کوئی رشتہ دار ہے ؟ اس نے عرض کی : میرے والدین ہیں ،فرمایا: کیا انہوں نے تمہیں اجازت دی ہے؟ عرض کی : نہیں ،ارشاد فرمایا: ان کی طرف لوٹ جاؤ اور ان سے اجازت طلب کرواگر وہ اجازت دیں تو جہاد کرو ورنہ ان کی خدمت میں مشغول ہوجاؤ۔ (2)
والدین کی خدمت اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے والوں کو نور برساتی حدیثِ مبارکہ میں عمر اور رزق میں کشادگی کی بشارت عطاگئی ہے چنانچہ حضورِ اکرم نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان نور بار ہے : جسے یہ پسند ہو کہ اس کی عمر اور رزق میں اضافہ کردیا جائے تو اسے چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور اپنے رشتہ داروں کےساتھ صِلہ رحمی کیا کرے۔ (3)
________________________________
1 - مصنف عبد الرزاق ، کتاب الایمان والنذر، باب الخزامة، ۸ / ۳۸۹، حدیث : ۱۶۱۴۰
2 - ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب الرجل یغزو۔۔۔الخ ، ۳ / ۲۵، حدیث : ۲۵۳۰
3 - الترغیب والترہیب، کتاب البر والصلاة ، باب بر الوالدین ، ۳ / ۲۵۵، حدیث :۳۷۹۸