پیر و مرشد سے بھلائی ہی ملتی ہے
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ایک مریدنے اپنے والدین اور گھروالوں کو چھوڑ چھاڑ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے آستانے پر ڈیرہ جما لیا ۔ دن رات آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں مصروف رہتا ، نہ والدین کی خبر گیری کرتا نہ بال بچوں کی فکر ۔ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے فرماىا : تمہارا مجاہدہ اور رىاضت اپنى جگہ مگر معاملاتِ دنىا سے بے نىاز رہنا ہر ایک کے لئے مناسب نہیں، تم بال بچوں والے ہوتمہارے ماں باپ بوڑھے ہوچکے ہیں تم پر ان سب کے حقوق ہىں اگر تم نے ان کے حقوق ادا نہ کئے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احکامات کے خلاف ہوگانہ دنیا میں سرخرو ئی ملے گی نہ آخرت میں بلکہ ذلت و رسوائی مقدر ہوگی ، جاؤ! اپنے گھربار کى طرف دىکھواور ان کے حقوق ادا کرو۔‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شہد میں ڈوبے ہوئے کلمات تاثیر کا تیر بن کر اس مرید کے دل میں پیوست ہوگئے اور وہ اپنے گھر واپس لوٹ آیا۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں بچےکی پیدائش سے لےکرمرنےجینے،اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے، کام کاج ، بیوی بچوں
________________________________
1 - دلوں کے مسیحا، ص۳۱۳ملخصاً