کھڑے رہے کہ ایک مرتبہ پھر کوشش کریں گے مگر ان کى ىہ خواہش پورى نہ ہو سکى، حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پہلى ہى رکعت مىں اتنا طوىل قىام کىا کہ وہ لوگ کھڑے کھڑے اُکتا گئے، آخر کار اپنا سا منہ لے کر رَہ گئے اور واپس لوٹ آئے۔ چند دن بعدایک صاحب عمدہ کھانا لے کر حاضر خدمت ہوئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے قبول فرمالیا یہ دیکھ کر کسی نے عرض کی : حضور! فلاں دن آپ نےعمدہ کھاناقبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور آج قبول کرلیا اس میں کیا حکمت ہے؟ ىکاىک حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گىا اور آپ نے نہاىت پُر جلال لہجے مىں فرماىا : ان لوگوں کى نىتىں درست نہىں تھىں، کىا وہ لوگ مجھے بے خبر سمجھتے ہىں؟ مىں ہر گز بے خبر نہىں ہوں، حضرت شاہ عناىت قادرى کا غلام بھلا کىسے بے خبر رہ سکتا ہے۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیت کی تبدیلی سے اچھا عمل برا اور نیک گمان بدگمانی میں بدل جاتا ہے۔جس کی نیت اچھی اس کا صلہ بھی اچھا، جس کی نیت میں فُتُور اس کا صلہ بھی مردود، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھئے کہ اللہ والوں کا وجود ہر زمانے میں رہا ہے مگر ہر کوئی انہیں آسانی سے تلاش نہیں کرسکتایہی وجہ ہے کہ آج بھی جگہ جگہ ایسے لوگ دکھائی دیتے ہیں جوان اللہ والوں کا بھیس بدل کر عوام الناس کے جذبات اور ان کی عقیدت کے ساتھ کھِلواڑکرتے (یعنی کھیلتے)
________________________________
1 - دلوں کے مسیحا، ص۳۰۳تا۳۰۴ملخصاً