Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
32 - 73
اولیاءاللہ بے خبر نہیں ہوتے 
	پیارے اسلامی بھائیو!جہاں پھول ہوتے ہیں وہاں کانٹے ضرور ہوتے ہیں جہاں اچھے لوگ ہوں وہاں برے لوگ بھی  ہوتے ہیں۔جب حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی عبادت وریاضت اور ولایت کا شہرہ پھیلنے لگا تو چند بدباطن بھی پیدا ہوگئےجنہوں نے  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو  ڈھونگی اور بناوٹی پیر ثابت کرنے کے لئےاىک بڑے تھال مىں دو رىشمى جوڑے، چند لذىذ کھانے اور چاندى کے سوسکّے رکھےاور آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى جھونپڑى کے قرىب پہنچ گئے اس وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ درىا کے کنارے نماز پڑھ رہے تھے ان لوگوں نے کچھ دىر انتظار کىاجب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سلام پھىرا اور ان سے یہاں آنے کا مقصد پوچھا تو انہوں نے چرب زبانى کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا: اگر آپ اس حقىرنذرانے  کو قبول فرمالىں گے تو ىہ ہمارے لىے  بڑى سعادت ہوگى۔حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بڑے شىرىں لہجے مىں فرماىا:  مىں تو دنىا کو بہت پىچھے چھوڑ آىا  ہوں اور آپ لوگ  اسى دنىا کو سجا کر پھر مىرے سامنے لے آئے، مىں جس کى خاطراس وىرانے مىں آپڑا ہوں، وہى مىرى ضرورتوں کا کفىل ہےاگر آپ لوگ ارد گرد نظر دوڑائیں  تو بستی میں کئی ضرورت مند ایسے نکل آئیں گے جنہیں ان چیزوں کی حاجت ہوگی لہذا ان کا خىال رکھىں اور میرے پاس سے یہ سب چیزیں لے جائیں۔ىہ کہہ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے دوبارہ نماز کى نىت باندھ لى۔وہ لوگ