Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
30 - 73
 اندھیرا ہے یہیں پڑا رہ،  شاید وہ آفتابِ معرفت کسی دن تجھ پر مہربان ہوجائے اور تیرے دل کی تاریکیاں دور کردے۔اسی ذہنی کشمکش کے شکار رہے یہاں تک کہ  ایک ماہ گزر گیا بالآخر دل و دماغ دونوں نے مل کر یہ فیصلہ کرلیا کہ بس ! اب  حضرت بابا بلھے شاہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں ساری زندگی گزاردینا ہے چاہے شرف ِ بیعت حاصل ہویا اس اعزاز سے سَدامحرومی رہے، اسی روز حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے خواب میں پیرو مرشد حضرت علامہ شاہ محمد عنایت قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کویہ فرماتے سنا :  حافظ جمال کو اپنے حلقۂ ارادت میں داخل کرلو کہ  اب وہ ایک دَر کا پابند ہوگیا ہے ۔  (1)  
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت حافظ جمال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب یَک دَر گیر مُحکم گیر یعنی ایک دروازہ پکڑ اور مضبوطی سے پکڑ،پر عمل پیرا ہوئے تو انہیں  شرفِ بیعت کا مژدۂ جانفزا سنایا گیا ، یاد رکھئے کہ جو مرید اپنے مرشد ِکامل سے مضبوط ارادت نہیں رکھتا اور کبھی اِس دَر پر جاتا ہے تو کبھی اُس در پر اور کبھی کسی اور طرف نکل جاتا ہے،ایسا مریدیونہی بھٹکتا رَہ جاتا ہے اور  اپنے پیر کے فیض سے محروم رَہ جاتا ہے لہذا مرید کو چاہیے کہ اپنے پیرو مرشد کا فیض پانے کے لئے اس سے ارادت مضبوط رکھے اور یک در گیر محکم گیر پر کاربند رہے اور ہمیشہ اس کی فرمانبرداری کرتا رہے کہ یہی وہ دروازہ ہے جس کے ذریعے اس  کے دل پر انوار و



________________________________
1 -     دلوں کے مسیحا،  ص۳۱۴بتصرف