یک در گیر محکم گیر کا صلہ
ایک مرتبہ حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں جمال نامی حافظ صاحب حاضر ہوئے اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دستِ اقدس پر مرید ہونے کی درخواست کی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : کچھ دن ٹھہرجاؤ کہ نہ جانے تمہارے مقدر میں کیا لکھا ہےاورمیں اس سلسلےمیں بااختیار نہیں ہوں اگر پیرو مرشدنے توجہ فرمائی تو تم بامراد ٹھہرو گے، یہ سنتے ہی حافظ جمال پر ناامیدی کے گہرے بادل چھا گئے مگر رحمتِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ نے ڈھارس بندھائی چنانچہ روزانہ تہجد کی نماز ادا کرکے بڑے پُرسوز لہجے میں دعا کرتے : اے زمین و آسمان کے مالک ! تو نے اپنے کلام کی روشنی سے میرے سینے کو منور فرمایا اب اسی روشنی کے صدقے میں مجھے مرشد کامل عطا فرما۔ دعا مانگتے مانگتے حافظ جمال کی آنکھوں سے سیل ِ اشک رواں ہوجاتے، روزانہ کئی کئی بار حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے چہرہ مبارکہ کی طرف نظر اٹھاتے کہ شاید مرکز الاولیاء لاہور سے ان کی درخواست کی منظور ی آگئی ہو مگر حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خاموش دیکھ کر امیدوں پر اوس پڑ جاتی اور دل بجھ سا جاتاچنانچہ دل ہی دل میں مخاطب کرکے کہتے : جمال ! تو اس قابل نہیں ہے کہ حضرت شاہ عنایت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلسِ معرفت میں شریک ہوسکے اپنے گھر لوٹ جا کہ شاید تیری قسمت میں یہ سعادت نہیں ہے ۔پھر خود ہی ان خیالات کو جھٹک دیتے اور کہتے کہ جمال ! تو یہاں سے اٹھ کر اور کہاں جائے گا ؟ اس جھونپڑی سے نکل کر تو اندھیرا ہی