Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
27 - 73
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! انسان کو ہلاکت کے گہرے گڑھے میں ڈال دینے والا ایک گناہ ’’ خود پسندی‘‘  ہے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے : اگر تم کوئی  گناہ نہ کرو تو پھر بھی مجھے ڈر ہے کہ تم اس سے بڑی چیز”خود پسندی  ‘‘ میں مبتلا نہ ہو جاؤ ۔  (1)   
	حجۃ الاسلام حضرت سیّدناامام محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَا لِیارشاد فرماتے ہیں :  خود پسندی کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے آپ کو علم و عمل میں کامل سمجھنے کی وجہ سے انسان کے دل میں تکبر پیدا ہوجائے۔ اگر اُسے اُس کمال کے زائل ہونے کاخوف ہو تو وہ خودپسند نہیں کہلائے گا اوراسی طرح اگر وہ اس کمال کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمت سمجھ کر اس پر خوش ہو تو بھی خودپسندی نہیں بلکہ وہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل پر خوش ہے ۔ اور اگر وہ اس وجہ سے خوش ہو کہ یہ اس کی اپنی صفت ہے اور نہ اس کے زوال کی طرف متوجہ ہو اور نہ یہ سوچے کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت ہے تویہی چیز خود پسندی کہلاتی ہے اور یہی ہلاکت میں ڈالنے والی ہے۔
	پھر خود پسندی کا علاج ارشاد فرماتے ہیں کہ انسان اپنے انجام میں غور کرے اور بَلْعَمْ بن بَاعُوْرَاء   (2)  کے بارے میں غور کرے کہ اس کا خاتمہ کیسے کفر پر ہوا اور



________________________________
1 -    الترغیب والترھیب،  کتاب الادب،  باب الترغیب فی التواضع،  ۳ / ۴۴۲،   حدیث: ۴۴۹۰  
2 -     بلعم بن باعوراء اپنے دور کا بہت بڑا عالم اور عابد و زاہد تھا۔ اسے  اسمِ اعظم کا بھی علم تھا۔ یہ اپنی جگہ بیٹھا  اپنی روحانیت سے عرش ِاعظم کو دیکھ لیا کرتا تھا۔بہت ہی مستجاب الدعوات تھا جب اس نے حضرت سیِّدناموسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خلاف دعاکاپختہ ارادہ کرلیاتو اس کی زبان سینے تک لٹک گئی ،  کتے کی طرح ہانپنے لگا،  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس سے ایمان،   علم اور معرفت چھین لی۔