Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
26 - 73
 مرشد نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے باب المدینہ   (کراچی)   سے روحانی طور پر تشریف لا کر  میرے مرض کا علاج فرمادیا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اب میں بالکل نارمل ہوں ۔  (1)  
اب لے جلدی خبر تیری جانب نظر	میں نے لی ہے لگا میرے مرشد پیا
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
والد ماجد کی انفرادی کوشش 
	حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے والد ماجد حضرت سیِّد سخی شاہ محمد گیلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہایک مرتبہ آپ سے ملنے آئے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے اہل ِ علاقہ کی محبت دیکھی تو بہت خوش ہوئے پھر فکر آمیز لہجے میں انفرادی کوشش کرتے ہوئے فرمانے لگے :  بیٹا ! تم اپنى ان کامىابىوں پرخوش نہ ہوجانا، وہ زمانہ ىاد کرو کہ جب تم اىک خوش رنگ پھول تھے مگر خوشبو سے خالى تھے جس شاخ پر  تم کھلےتھے مرشد کریم نے  اس کی  آبىارى کى پھررب  عَزَّ  وَجَلَّ  نے تم پر کرم فرماىا اور تم مہکنے لگے، مىں نے اىسے کئی پھول دىکھے ہىں جو شدىد محنت و رىاضت کے باوجود زندگى بھر خوشبو سے محروم رہے۔پھراگلے دن نماز ِ فجر ادا کرنے کے بعد بىٹے کو اپنى دعاؤں سے سرفراز فرمایا اور ”پانڈوکے  ‘‘    (ضلع قصور)  روانہ ہوگئے۔  (2)  


________________________________
1 -     بے قصور کی مدد،  ص۲۹
2 -     دلوں کے مسیحا،  ص۳۰۲بتصرف