بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں بھیجا،جس میں اپنی بیماری کا حال لکھ کر نظرِ کرم کی درخواست کی گئی تھی۔ غالباًبدھ کے روزمکتوب شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بارگاہ میں پہنچ گیا۔ جمعرات کومیں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضر ہوا ۔بعدِ اجتماع ایک اسلامی بھائی سے ملاقات کے دوران مجھے اپنے دل میں تھوڑا درد محسوس ہوا تومیں ایک کونے میں جاکر بیٹھ گیا اچانک میں نے دیکھا کہ میرے سامنے شیخِ طریقت ،امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تشریف فرماہیں ،آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے خوشبوؤں کی لپٹیں آرہی ہیں۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مجھے مسکراکرسینے سے لگایا، تسلی دی اور چاروں قُل شریف پڑھ کر مجھ پر دَم فرمایا،پھر فرمایا : ”کہو! مدینہ ‘‘ میں نے حکمِ مُرشِد پر ’’ مدینہ ‘‘ کہا تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّمیری آوازکھل گئی ۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک اسلامی بھائی کے نام یہ پیغام بھی دیا کہ میرے گھر جاکر چاروں قُل شریف پڑھ کرپانی پردم کریں اور چاروں کونوں میں چھڑک دیں۔ میں ”مدینہ ، مدینہ ‘‘ کہتا ہوا اسلامی بھائیوں کی طرف متوجہ ہوا۔وہ مجھے بولتادیکھ کر حیرانگی کے ساتھ میرے گرد جمع ہوگئے۔ میں نے سب کو بتایا ابھی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تشریف لائے تھے۔وہ میٹھے مُرشِد کی آمد کا سن کر جھوم اُٹھے۔یوں میرے پیر و