Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
24 - 73
پیارے اسلامی بھائیو! بے شک ذاتی طور پر صِرْف اور صِرْ ف اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہی دلوں کے اَحوال جاننے والا ہے ،مگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی عطا سے اُس کے مقبول بندے بھی دلوں کے احوال جان لیتے ہیں اور مخلوقِ خدا کے دکھ دَرد کا مُداوا  (علاج )   کرتے ہیں چنانچہ حضرت سَیِّد علی بن وفار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار قربِ مرشد کے طلب گاروں کو آسان راستہ دکھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس مرید نے یہ گمان کیا کہ اس کا شَیخ اس کے اَسرار  (یعنی رازوں)   سے واقف نہیں ہے تو وہ مرید اپنے شَیخ سے بہت دور ہے اگرچہ دن رات مرشِد کےساتھ ہی بیٹھا ہو۔  (1)   
امیرِ اہلسنت امداد کو پہنچ گئے 
	جَڑانوالہ  (پنجاب ،پاکستان)  کے ایک مَدنی اسلامی بھائی کا حلفیہ بیان کچھ یوں ہے کہ ایک دن اچانک میری آواز بند ہوگئی جس کی وجہ سے بولناتودرکنار رونے کی آواز بھی نہیں نکلتی تھی،میں ایک گونگے شخص کی طرح ہوکررہ گیا، مرکز الاولیاء   (لاہور)   اور دیگر شہروں میں بڑے بڑے ڈاکٹروں کو دکھایامگر میرا مرض کسی کی سمجھ میں نہ آیا ڈاکٹرمختلف دوائیں دیتے اورکچھ دن بعدجواب دے دیتے۔ آوازبندہونے کے 13ویں دن میں نے ایک دستی مکتوب اپنے پیرومرشد پندرھویں صدی ہجری کی عظیم علمی ورُوحانی شخصیت شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت ، 



________________________________
1 -     آداب مرشد کامل،   ص۶۰