مرشد باخبر ہوتا ہے
حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تنہائى کے عادى نہ تھے اس لىے آغازِ سفر مىں پىر و مرشد، والدىن اور دوست احباب کى بہت ىاد آتى۔ کبھى کبھى شدتِ کرب سے بے قرار ہو کرمرشد نگر مرکز الاولیاءلاہور کى طرف رُخ کرتے اور غائبانہ طور پر پیرو مرشد کی بارگاہ میں عرض گزار ہوتے : یا سىدى ! مجھے سب کچھ گوارا ہے مگر آپ سے جدائى برداشت نہىں ہوتى، دل دَرد میں مبتلا رہتا ہے تو نظر شربت ِدیدکی طلب گار رہتی ہے اگر اجازت ہو توحاضری کی سعادت پاکر اپنے دردِ دل کا سامان کرلوں اور آنکھوں کى پىاس بجھالوں۔ جس دن بھی بارگاہِ مرشد میں یہ فریاد ہوتی اسی دن پیرو مرشد حضرت علامہ شاہ محمد عناىت قادرى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی خواب مىں تشرىف لا کر ارشاد فرماتے: ىاد رکھو، سختى کے بعد آسانى اور جدائی کے بعد ملاپ ہوتاہے ، ابھى تم نے سختىاں کہاں برداشت کى ہىں کہ آسانىاں ڈھونڈرہے ہو، ابھى تم آتشِ فراق مىں کب جلے ہو کہ راحتِ وصال مانگ رہے ہو۔ پہلے خاک تو ہوجاؤ پھر کوچۂ ىار کى آرزو کرنا۔‘‘ پىرو مرشد کى ہداىت پا کر حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اداس تو ہوجاتے مگرىہ احساس آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو لذت سے سرشار کردىتا کہ پیرو مرشد مىرے حال سے بے خبر نہىں ہىں۔ (1)
________________________________
1 - دلوں کے مسیحا، ص۲۹۹