بھوک برداشت کرنا یہ حقیقت میں کمال ہے۔ چُنانچِہ روایت ہےکہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار، دو جہا ں کے مالِک و مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اختیاری طور پر بھوک برداشت فرماتے تھے۔ (1)
لُوٹ لے رَحمت ، لگا قفلِ مدینہ پیٹ کا پائے گا جنّت ، لگا قفلِ مدینہ پیٹ کا
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
جنّت میں آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پڑوس
معلوم ہوااِختیاری طور پر بھوک برداشت کرنا ہمارے مکّی مَدَنی آ قا، میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی میٹھی میٹھی سنّت ہے اور سنَّت کی عظمت کے تو کیا کہنے! خود صاحِبِ سنَّت، سراپا رحمت، بِاِذنِ ربُّ العزّت مالکِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہےکہ جس نے میری سنّت سے مَحبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔ (2)
آپ بھی اپنی سوچ و فکر کا دھارا تبدیل کرتے ہوئے گناہوں سے بچنے اور نیک بننے کے لئے تبلیغ ِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوکردونوں جہاں کی سعادتیں حاصل کریں۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
________________________________
1 - شُعُبُ الایمان، ۵ / ۲۶، حدیث:۵۶۴۰
2 - مشکاة المصابیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام..الخ، ۱ / ۵۲، حدیث:۱۷۵