اسے سامانِ غیب تصور کیا اور تناول فرمانا شروع کیا مگر ایک روٹی کھاکر ہاتھ کھینچ لیا، کسان یہ دیکھ کر گھبراگیا اور عرض گزار ہواکہ شاید آپ کو کھانا پسند نہیں آیا اس لئے ہاتھ روک لیا ہے، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کی دل جوئی کرتے ہوئے فرمایا: تمہاری مکئى کى روٹى اور ساگ ،باد شاہوں کےعمدہ کھانوں سے زىادہ لذىذ ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری روزى مىں برکت عطا فرمائے۔اس واقعے کے بعد قرب و جوار کے دوسرے کسان بھى آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے لىے اپنے اپنے گھروں سے کھانا لانے لگے مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اىک روٹى سے زىادہ ہر گز نہ کھاتے۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّدعوتِ اسلامی کا مشکبار مدنی ماحول ہمیں بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کی یاد دلاتا ہے۔شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی شہرہ آفاق تالیف ”فیضانِ سنّت ‘‘ جلد اوّل کے صفحہ 644 پر طریقت کے چمنستان کی چابی کو الفاظ کا جامہ یوں پہناتے ہیں: پیٹ بھر کر کھانا مُباح یعنی جائز ہے مگر ”پیٹ کا قفلِ مدینہ ‘‘ لگاتے ہوئے یعنی اپنے پیٹ کو حرام اور شُبُھات سے بچاتے ہوئے حلال غذا بھی بھوک سے کم کھانے میں دین و دنیا کے بے شُمار فوائد ہیں۔ کھانا مُیَسَّرنہ ہونے کی صورت میں مجبوراً بھوکا رہنا کوئی کمال نہیں ،وافِر مقدار میں کھانا موجودہونے کے باوُجُودمَحض رِضائے الہٰی کی خاطِر
________________________________
1 - سیرت حضرت بابا بلھے شاہ ، ص ۵۷ ملخصاًوغیرہ