ہویا آندھی و طوفان آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ موسم کى ہر سختى کومسکرا کر برداشت کرتے،آشیانہ بکھر جاتا تو تنکا تنکا جمع کرکے دوبارہ بنالیتے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دن رات عبادت و ریاضت میں مُستَغرَق رہتے سخت مجاہدات اور موسم کى سختىوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے رنگ کو جُھلس کر رکھ دیا تھاجس کی وجہ سے آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا سرخ و سفىد رنگ سىاہى مائل ہوچکا تھا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عموماً جنگلى پھلوں پر گزر بسر کرتے اور جب یہ موسم بھی گزر جاتاتو درختوں کے پتے کھا کر شکم کى آگ بجھاتے ۔ (1)
ایک روٹی سے زیادہ نہ کھاتے
رفتہ رفتہ آس پاس کے علاقوں میں آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی برکتوں کا ظہور ہونے لگا ،لوگوں کے مسائل حل ہونے لگے ،غربت و مفلسی دور ہونے لگی، کھیتوں میں پیداوار زیادہ ہوئی ،کھلیانوں میں غلے کے انبار لگ گئے،بے روزگاروں کو روزگار کے مواقع ملنے لگے اس تبدیلی کو ہر ایک نے محسوس کیااور خوشی اور حیرت کے ملے جُلے تاثرات کا اظہار کیاآہستہ آہستہ یہ راز کھلنے لگا کہ دریا کے کنارے ایک ہستی دنیا و مافیھا سے بے خبر ہو کر ذکر و عبادت میں مصروف رہتی ہے چنانچہ ایک کسان مکئی کی روٹی اور ساگ لے کر حاضرِ خدمت ہوگیا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے
________________________________
1 - سیرت حضرت بابا بلھے شاہ ، ص۵۶تا ۵۷ ملخصاًوغیرہ