Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
19 - 73
 نفس کو عادی بناؤ کبھى بھوک  کا تو کبھى پىاس کا ، کبھى تىزدھوپ کا تو کبھى سخت سردى کا، یاد رکھو! اىثار،صبر،قناعَت اورتَوَکُّل،’’تصوف‘‘ کى عمارت کے چار ستون ہىں  اگر اىک ستون بھى کمزور رہ جائے تو عمارت میں مضبوطی  نہیں آپاتی جس کی وجہ سے وہ کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ بے شک! ہم سب عالمِ اسباب مىں سانس لے رہے ہىں مگر مسبب الاسباب اسى کى ذاتِ پاک ہے، غىر کى گلىوں مىں زندہ رہنے سےبہتر ہے کہ بندہ حبیب کے کوچے میں مرجائے ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم پر منزلِ شوق آسان فرمائے ۔  (1)  
اے کاش ! ہم بھی نفسانی خواہشات اور نمو دو نمائش کے حجابات دور کرنے کے لئے اور دل کی دنیا کو محبتِ الٰہی  عَزَّ  وَجَلَّ  اورعشقِ ِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آباد کرنےکے لئے علم و حکمت کے ان مدنی پھولوں کواپنے دل کے آبگینے پر سجالیں۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب!		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
عبادت و ریاضت  
	حضرت بابا بلھے شاہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پیرو مرشد کی ہدایت پر جھنگ تشرىف لے آئے اور درىائے چناب کے کنارے ایک چٹان کے سہارے بانسوں کو کھڑا کرکے ٹاٹ کی بوری لپیٹ کر گھاس پھونس کی ایک شکستہ جھونپڑی بناکر اپنی دنیا آباد کرلی جہاں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کئى سال تک سخت رىاضتوں اور مجاہدوں میں مصروف رہے  گرم ہواؤں  کے تھپىڑےہوں یا سرد ہواؤں کے جھونکے ،سىلاب 



________________________________
1 -     دلوں کے مسیحا،  ص۲۹۸ بتصرف