جمانے والوں کے لئے بھی مشعل کی مثل روشنی بکھیر رہے ہیں چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : طریقت میں جو حقائق وغیرہ آدمی پر کھلتے ہیں وہ شریعت کی پیروی ہی کا صدقہ ہے ورنہ شریعت کی پیروی کے بغیر بڑے بڑے کشف تو راہِبوں، جو گیوں اور سَنیاسِیُوں کو بھی ہوتے ہیں ان کے کَشف انہیں کہاں لے جاتے ہیں اسی بھڑکتی آگ اور درد ناک عذاب کی طرف لے جاتے ہیں۔ لہذا شریعت کی پیروی کے بغیر کسی کَشف کا کوئی فائدہ نہیں۔شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ایک ایک سانس، ایک ایک پل، ایک ایک لمحہ پر مرتے دم تک ہے اور طریقت میں قدم رکھنے والوں کو تویہ حاجت اور زیادہ ہے کہ راستہ جس قدر باریک وکٹھن ہوتا ہے رہنما کی حاجت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور رہنما یہاں پر ’’شریعت‘‘ ہے مزید فرماتے ہیں: اے عزیز ! شریعت ایک عمارت ہے اس کی بنیاد ’’عقائد‘‘ اور چُنائی ’’عمل‘‘ ہے پھر ظاہری اعمال وہ دیواریں ہیں جو اس بنیاد پر تعمیر کی گئیں اور جب وہ تعمیر اوپر چڑھ کر آسمانوں تک بلند ہوجاتی ہے تو طریقت کہلاتی ہے۔ دیوار جتنی اونچی ہوگی اسی قدر زیاد ہ اسے بنیاد کی حاجت ہوگی بلکہ عمارت میں ہر اوپر والے حصے کو نیچے والے حصے کی حاجت ہوتی ہے اگر نیچے سے دیوار نکال دی جائے تو اوپر والا حصہ بھی گر جائے گا تو وہ شخص احمق ہے جسے شیطان نے نظر بندی کرکے اس کے اعمال کی بلندی آسمانوں تک دکھائی اور دل میں یہ بات ڈالی کہ تم تو زمین کے دائرے سے اوپر گزر گئے ہو تمہیں ان نیچے والے حصوں کی کیا حاجت اور پھر اس احمق نے شیطان کے دھوکے میں آکر بنیادوں سے تعلق توڑ لیا تونتیجہ وہ نکلا جو قرآن مجید نے فرمایا :