طریقت دُشوار راستہ ہے
حضرت علامہ شاہ محمد عناىت قادرى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی خانقاہ میں کوئی بیعت کے لئے حاضر ہوتاتو واضح الفاظ میں ارشاد فرمادیتے ’’ طریقت ایک کٹھن اور مشکل راستہ ہے، میرے پاس کچھ نہیں ہےاور نہ میں اسے پسند کرتاہوں کہ لوگ اس راہ میں اپنے پاؤں زخمی کرلیں اور یہ کہتے ہوئے لوٹ جائیں کہ ہمارا بہت سا وقت برباد ہوگیااور ہمارے ہاتھ کچھ نہ آیا ‘‘ ۔پھر عاجزی کرتے ہوئے اہل ِ محفل سے فرماتے کہ عنایت تو خود کسی کی عنایت کا محتاج ہے وہ بس اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم سے راستہ دکھاسکتا ہے اور تمہاری کامیابیوں کے لئے دعا کرسکتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری محنت اور کوشش کے پھل تمہیں عطا فرمائے اور تم پر اس دشوار گزار سفر کو آسان بنائے۔ اکثر لوگ یہ سُن کر واپس چلے جاتے جبکہ کچھ لوگ بَضِد رہتے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کڑی شرائط کے ساتھ انہیں اپنے حلقۂ ارادت میں شامل فرمالیتے۔ (1)
پیارے اسلامی بھائیو! راہِ طریقت واقعی ایک مشکل راستہ ہےجس پر چلنے والوں کے لئے شریعت کے پاکیزہ دامن کو تھام کر رکھنا اَز حَد ضروری ہےورنہ اس راہ میں بہک جانے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےکلماتِ مبارکہ نہ صرف اس راہ میں بھٹکنے والوں کے لئے بلکہ دیکھنےاورقدم
________________________________
1 - دلوں کے مسیحا، ص۲۹۳ملخصاً