Brailvi Books

فیضانِ بابا بلّھے شاہ
15 - 73
پس  حضور نےہمیں  دروازہ بند کرنےکا حکم دیا پھر فرمایا: تم اپنے ہاتھوں کو اٹھاکر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہو،راوی کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کو ایک ساعت تک اٹھائے رکھا پھر رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا فرمائی کہ سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کےلئے ہیں الٰہی ! تو نے مجھے اس کلمہ کے ساتھ بھیجا اور اس پر مجھے جنت کا وعدہ فرمایااور تو وعدے کا خلاف نہیں فرماتا ۔پھر دعا کے بعد ہم سے ارشاد فرمایا:  خوش ہوجاؤ کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے تمہیں بخش دیا۔  (1)  
	خلیفۂ اعلیٰحضرت ملک العلماء حضرت علامہ مفتی ظفر الدین بہاری رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ پاک سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:  یہ خاص توجہ لینے اور دینے کا جزئیہ ہے ورنہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کی تعلیم کے واسطے تو حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام جہانوں کی طرف بھیجے گئے  پھر اس پوچھنے کے کیا معنی تھے کہ ھَلۡ فِیۡکُمْ غَرِیۡبٌ تم میں کوئی اجنبی تو نہیں ؟پس اس پوچھنے ہی پر بس نہ فرمایابلکہ دروازہ بند کرنے کا حکم دیا تاکہ کوئی غیر داخل نہ ہوسکے ،معلوم ہوا کہ یہ کوئی خاص تلقینِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ تھی جس میں خاص ہی خاص حضرات کا حصہ ہےاور یہ وہی توجہ ہے کہ مشائخِ کرام اپنے مریدین کو دیتے ہیں ۔  (2)  
پھر توجہ بڑھا میرے مرشد پیا 		نظریں دل پہ جما میرے مرشد پیا
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !		صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد


________________________________
1 -     مسند احمد،  مسند شامیین ،   حدیث شداد بن اوس،   ۶ / ۷۸،  حدیث:۱۲۱ ۱۷
2 -     فتاویٰ ملک العلماء ص۳۱۳بتغیر