: ایک موقع پر اللہ کے رسول، رسولِ مقبول، بی بی آمنہ کے مہکتے پھول عَزَّوجَلَّ و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم و رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ارشاد فرمایا: ''مومِن کی مِثال اس دَرْخت کی سی ہے جس کے پتےّ نہیں گِرتے، بتاؤ وہ کونسا دَرَخت ہے؟ حاضِرین مُختلف درختو ں کے نام عرض کرنے لگے۔ حضرتِ سیِّدُنا عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما بہت ذِہین تھے، فرماتے ہیں کہ میرے ذِہن میں آگیا کہ کَھجور کا درخت ہے لیکن (ادَباً) میں نے بتانے سے حَیاء محسوس کی۔ پھر حاضِرین نے عرض کی: یا رسولَ اﷲ! عَزَّوجَلَّ و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم آپ ہی ارشاد فرما دیجئے تو حضور پُر نور، شاہِ غیور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایاکہ وہ کَھجور کا دَرَختْ ہے۔( صحِیح مُسلِم ص۱۵۱۰حدیث ۲۸۱۱ ) یہ ہے حیا و ادب