Brailvi Books

باحیا نوجوان
62 - 64
دیتے رہے مگر جب بھی حاضر ہوئے نگاہیں نیچی کئے سر جُھکائے بیٹھے رہتے تھے، اِسی وجہ سے انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کمرے میں طاق کہاں ہے! اور ہم لوگ اگر کسی بُزُرگ کے آستانے پر جائیں تو چاروں طرف نظریں گُھما کر وہاں کے ایک ایک کونے کا جب تک مُعایَنہ نہ کر لیں چین نہ پائیں۔ اِس حِکایت سے ہمیں بھی بزرگوں کی خدمت میں باادب حاضِری کا انداز معلوم ہوگیا۔
ع                   با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب
آنکھیں پھوٹی ہوئی ہوتیں تو بہتر تھا
    ہمارے اسلاف کسی کے گھر میں اِدھر اُدھر دیکھنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ چُنانچِہ ابنِ اَبی ہُذَیل کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عبد اﷲ ابنِ عُمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما اپنے ایک مُصاحِب کے ساتھ کسی شخص کے گھر تشریف لے گئے۔ جب اس کے گھر میں داخِل ہوئے تو ان کا مُصاحِب (یعنی رفیق) اِدھر اُدھر دیکھنے لگا
Flag Counter