ہیں کہ خَلیق نہیں، بڑے ہیں کہ شفیق نہیں اور دوست ہیں کہ واقِعتاً رفیق نہیں، بیٹا رحیم نہیں تو باپ حلیم نہیں، بیٹی تُرش رُو توماں تَلْخ گو ہے۔ شاگرد حیا دار نہیں تو استاد نیک کردار نہیں۔ علمِ دین سے محرومی اور مَدَنی ماحول سے دوری کی بِنا پر والِدَین اولاد کی اسلامی تربیّت کررہے ہیں نہ بچّے ماں باپ کی خدمت کر رہے ہیں۔ اَلْغَرَض ہماری بے ادَبیاں اوربَد لحاظِیاں ہیں کہ جنہوں نے ہماری گھریلو اور معاشَرَتی زندگی کو تَہ و بالا کر کے تَلْخ و تُرش کر کے رکھ دیا ہے۔ جبکہ ہمارے اَسلاف سنّتوں بھری زندگی گزارنے کے باعث خوش خیال و خوش حال تھے۔ آئیے مُلاحَظہ فرمائیے کہ ہمارے اسلاف کے حیاء و ادب کا کیا عالَم ہوا کرتا تھا۔