و حُرمت کا پاسدار، حسنِ اَخلاق کا آئینہ دار، باادب و حیاء دار اور سنّتِ سرکار صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی چلتی پھرتی یاد گار ہوا کرتا۔ فرزند و دُختر اپنے مادَر و پدر سے اور شاگرد و مرید اپنے استاد و پیر سے آنکھ ملانا تو کُجا، پَیش رُو ہونے سے لَجاتے، دمِ گفتگو آنکھیں جُھکاتے، آواز دباتے اور جو حکم ہوتا بجا لاتے۔ عدمِ موجودگی میں بھی ادب ملحوظ خاطر رہتا اور بڑوں کو نام سے نہیں القاب سے یاد کرتے۔ الغرض (اَلْ۔ غَ۔ رَضْ) ہر آن و ہر گام مرتبہ و مقام کا لحاظ و پاس اور بڑے چھوٹے کی تمیز برقرار رکھتے۔ مگر افسوس کہ اب ہم میں سے تقریباً ہر مَرد و زَن، دختر و فرزند ان مدنی اُصُولوں سے نابلد، اَخلاق و آداب سے نا آشنا، قوانینِ شَرِیْعَت سے ناواقِف، بے زِمام و لگام، خانگی اور مُعاشَرَتی نِظام کی تباہی و بربادی میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بے حيائی اور بد اَخلاقی کا مظاہَرہ کر رہا ہے۔
بیٹا باپ سے آنکھوں میں آنکھیں نہیں گریبان میں ہاتھ ڈال کر بات کر رہا ہے۔ بیٹی ماں کا ہاتھ اگر چِہ نہیں بٹاتی مگر ماں پر ہاتھ ضَرور اٹھاتی ہے۔ چھوٹے