میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حیاء اور ادب کا آپس میں گہر ا تعلُّق ہے، باحیا ہمیشہ باادب بھی ہوتا ہے، ایک زمانہ تھاکہ ہر مسلمان ایک دوسرے کی عزّت
( الاحسان بترتیب صحیح ابنِ حبَّان ج۲ ص ۳ حدیث ۶۰۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
یہ فرمان تَہدید و تَخویف کے طور پر (یعنی ڈراتے ہوئے اور خوف دلاتے ہوئے) ہے کہ جو چاہے کرو جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ بُرا (بے حيائی والا کام) کرو گے تو اس کی سزا پاؤ گے۔
کسی بُزُرگ (بُ۔ زُرْ۔ گْ) نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی (جس کا خُلاصہ یہ ہے کہ) ''جب گناہ کرتے ہوئے تجھے آسمان و زمین میں سے کسی سے (شرم و حياء) نہ آئے تو اپنے آپ کو چَوپایوں میں شمار کر۔''
حضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے: ''حیاء کی غایت (یعنی انتہا) یہ ہے کہ اپنے آپ سے بھی حیاء کرے۔''