Brailvi Books

باحیا نوجوان
53 - 64
وَ لِبَاسُ التَّقْوٰی ۙ ذٰلِکَ خَیۡرٌ ؕ ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللہِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُوۡنَ﴿26﴾
    میرے آقائے نِعمت، اعلٰیحضرت، امامِ اہلسنّت، عظیمُ البَرَکت عظیمُ الْمَرتَبت، پروانہ شمعِ رسالت، مُجَدِّدِ دین و ملّت، پیرِ طریقت، عالِمِ شَرِیْعَت، حامِی سُنّت، ماحِیِ بدعت، باعِثِ خیر و بَرَکت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رَحْمۃُ الرّحْمٰن اپنے شُہره آفاق تَرجَمَہ قرآن کنزُالایمان میں اِس کا ترجَمہ یوں فرماتے ہیں: 

اے آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی اولاد! بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تماری شَرْم کی چیزیں چھُپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو، اور پرہیز گاری کا لباس وہ سب سے بھَلا، یہ اللہ (عزوجل) کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔(لباس تقویٰ سے مراد ایمان، حياء، نیک عادتیں اور نیک اعمال ہیں) 

    افسوس کہ اب لباسِ تقویٰ کا باطنی لباس بھی پارہ پارہ ہوا اور ظاہری
 (پ۸ الاعراف ۲۶)
Flag Counter