حالانکہ وہ اسے (یعنی اُس کے سننے کو) نا پسند کرتے ہیں تو بروزِ قیامت اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ اُنڈیلا جائیگا۔'' (صحيحُ البُخارِی ج۴ ص۴۲۲ حدیث ۷۰۴۲ ) ''طَبَرانِی'' میں ایک طویل حدیث میں یہ بھی ہے: ''پھر میں نے کچھ ایسے لوگ دیکھے جن کی آنکھیں اور کان کیلوں سے ٹھکے ہوئے تھے دریافت کرنے پر بتایا گیا: یہ وہ لوگ ہیں جو وہ دیکھتے ہیں جوا نہیں نہیں دیکھنا چاہیے اور وہ سنتے ہیں جو انہیں نہیں سننا چاہیے۔(یعنی ناجائز دیکھتے اور سنتے ہیں)
(اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْرلِلطَّبَرَانِی ج۸ ص۱۵۵ حدیث ۷۶۶۶داراحیاء التراث العربی بيروت)