معلوم ہوا دیور و جیٹھ اور بھابھی میں پردے کا عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ سخت حکم ہے، اگر آپس میں ہنسنے بولنے اور بے پردَگی کا سلسلہ رکھنے سے جہاں بد نگاہی وغیرہ کا گناہ ہوتا رہے گا وہاں ''بڑے گناہ'' کا خطرہ بھی بڑھتا چلا جائیگا۔ بلکہ کبھی کبھی ہو بھی جاتا ہے! آہ! اگر دیور بے چارہ مدنی ماحول والا ہو اور بھابھی سے کترائے، شرمائے تو اس کا مذاق اُڑاتے ہیں، دیور کو چاہئے کہ لاکھ مذاق اُڑے مگر پرواہ نہ کرے، پردہ کی ترکیب جاری رکھے ورنہ آخِرت کی
حضرت سیِّدُناعُقبہ بن عامِر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ''عورَتوں کے پاس آنے سے بچو۔'' تو ایک انصار ی نے عرض کیا ''دیور کے بارے میں آپ کیافرماتے ہیں؟'' فرمایا: ''دَیور موت ہے۔''(سُنَنُ التِرمِذی ج۲ ص۳۹۱حدیث ۱۱۷۴)