اکرم،نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم،نبیِّ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ عبرت بنیاد ہے:اللہ تبارَک وَ تعالیٰ کی لعنت ہو دیکھنے والے پر اور اس پر جس کی طرف دیکھاجائے۔ (شُعَبُ الْاِیْمان لِلْبَیْہَقِیّ ج۶ ص۱۶۲ حدیث۷۷۸۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت) مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جو مرد اجنبی عورت کوقصداً بلا ضرورت دیکھے اس پر بھی لعنت ہے اور جو عورت قصداً بلا ضرورت اجنبی مرد کو اپنا آپ دکھائے اس پر بھی لعنت غرضیکہ اس میں تین قیدیں لگانی پڑیں گی اجنبی عورت کو دیکھنا ،بِلاضَرورت دیکھنا، قصداً دیکھنا۔(مراٰۃ ج۵ ص۲۴) سرکارِمدینہ منوّرہ،سردارِمکّہ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کاارشادِ عبرت بنیاد ہے:اپنی ران مت کھولواورکسی کی ران نہ دیکھو خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ۔
( سُنَنُ اَ بِی دَاو،د ج۳ ص۲۶۳حديث۳۱۴۰ )
نیکر پہن کر کھیلنے والے، جہاں گُھٹنے اور رانیں کھلی رکھ کر ورزش کی جاتی