Brailvi Books

باحیا نوجوان
39 - 64
ہر بات بے دھڑک منہ سے نکال دینا مُنافِق کی پہچان ہے۔ زیادہ بولنے والا گناہ بھی زیادہ کرتا ہے یعنی اَسی فیصدی گناہ زَبان سے ہوتے ہیں ۔                     (مراٰۃ المناجیح ج۶ ص۴۳۵ )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پہلے کی عورَتیں تو اِس قَدَر حیاء دار ہوتی تھیں کہ اپنے شوہر کا نام لیتے ہوئے جِھجَکتی تھیں اور مُنّے کے ابُّو وغیرہ کہتی تھیں۔ مگر اب تو بِلاتکلُّف''میرے میاں''''میرے شوہر'' ''میرے ہَزبَینڈ'' (Husband) کہتی ہیں۔ اور مرد بھی میرے بچّوں کی امّی وغیرہ کہنے کے بجائے ''میری بیوی'' ''میری وائف'' میری گھر والی کہتے ہیں، اپنے بچّوں کے ماموں کا تعارُف کروانے کا کافی شوق دیکھا گیا ہے۔ اگرچِہ وہ کزن ہو تب بھی بِلا ضَرورت صرف ''سالا'' کہہ کر تعارُف کروائیں گے۔ غالباً حَظِ نفس کیلئے ایسا کیا جاتا ہوگا۔ کوشش فرمائیے کہ مُہَذَّب اَلفاظ زَبان پر آئیں، ہاں، ضَرورتاً بیوی یا شوہر وغیرہ کا رِشتہ بتانے میں حَرَج بھی نہیں۔