| باحیا نوجوان |
دوستوں کو فرماتے: تم غور تو کرو کہ اپنے اعمال ناموں میں کیا لکھوا رہے ہو! یہ تمہارے رب عزوجل کے سامنے پڑھا جائے گا،تو جو شخص قَبِیح (یعنی شرمناک) گفتگو کرتا ہے اُس پر حَیف (یعنی اَفسوس) ہے، اگر اپنے دوست کو کچھ لکھواتے ہوئے کبھی اُس میں بُرے اَلْفاظ لکھواؤ تَو یہ تمہاری حیا کی کمی کی وجہ سے ہے ۔ تو اپنے رب عزوجل کے ساتھ ایسا مُعامَلہ کتنا بر اہو گا( یعنی جب نامہ اعمال میں بے حيائی کی باتیں ہوں) (تَنْبِیْہُ الْمُغْتَرِین ص۲۲۸ دارالبشائر بيروت)
ایمان کے دو شعبے:
اَلْحَیَاءُ وَالْعِیُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْاِیْمَانِ وَالْبَذَاءُ وَالْبَیَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ.
ترجمہ: حیاء اور کم گوئی ایمان کے دو شعبے ہیں اور فُحش بکنا اور زیادہ باتیں کرنا نِفاق کے دو شعبے ہیں۔ مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیث پاک کے اس حصے''زیادہ بولنا'' کی شرح میں فرماتے ہیں:یعنی
سرکارِ مدینہ راحت قلب و سینہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے:
(سُنَنُ التِّرْمِذِی ج۳ ص۴۱۴ حديث ۲۰۳۴ دارالفکر بيروت)