| باحیا نوجوان |
مسلمان کے بارے میں بدگُمانی وغیرہ سے اِحتِراز (پرہیز) کیا جائے اور سر کے اَعضاء جیسے ہونٹ، زَبان، کان اور آنکھوں وغیرہ کے ذَرِیعے بھی گناہ نہ کئے جائیں۔
زَبان کی حیاء
زَبان کو بُرائیوں سے بچاتے ہوئے بدزَبانی اور بے حيائی کی باتوں سے ہر وقت پرہیز کرنی چاہئے، اور یاد رکھئے! اپنے بھائی کو گالی دینا گناہ ہے اور بے حيائی کی باتیں کرنے والے بد نصیب پر جنّت حرام ہے۔ چُنانچِہ
جنّت حرام ہے:
(اَ لْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِیّ ص۲۲۱حديث ۳۶۴۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
جہنَّمی بھی بیزار:
منقول ہے: چار طرح کے جہنَّمی کہ جو کھولتے پانی اور آگ کے مابَین(یعنی درمیان) بھاگتے پھرتے وَیل وثُبُور (ھلاکت) مانگتے
حُضُور تاجدارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحِب مُعطّر پسینہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ باقرینہ ہے: ''اُس شخص پر جنَّت حرام ہے جو فُحش گوئی (یعنی بے حيائی کی بات) سے کام ليتا ہے۔''