کرو جیسا حیاء کرنے کا حق ہے۔'' سیِّدُنا عبداﷲ ابنِ مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا: '' ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیاء کرتے ہیں اور سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے ہیں۔'' ارشاد فرمایا: ''یہ نہیں، بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کما حقُّہ ،حیاء کرنے کے معنیٰ یہ ہيں کہ سر اور سر میں جتنے اَعضاء ہیں انکی اور پیٹ کی اور پیٹ جن جن اَعضاء کو گھیرے ہے اُن کی حفاظت کرے اور موت اور مرنے کے بعد گلنے سڑنے کو یاد کرے۔ اور آخِرت کو چاہنے والا دنیا کی زَیب و زِینت چھوڑ دیتا ہے تو جس نے ایسا کیا اُس نےاللہ عَزَّوَجَلَّ سے شرمانے کا حق ادا کر دیا۔'' (مُسْنَدِ اِمام اَحْمَد ج۲ ص۳۳حديث ۳۶۷۱ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں اپنے جسم کے تمام اَعضاء کو حیا کا عادی بنانا اور گناہوں سے بچانا چاہئے۔ اَعضاء کو گناہوں سے بچانے کے ضِمن میں کچھ مَدَنی پھول عرض کرتا ہوں: