اپنی جگہ پر مگر ان کے ساتھ بے حيائی کے کاموں کے اِرتِکاب نے اسکی صِفَتِ حَیاء اور نیک ہونے کی خَصْلَت کو سَلْب کر لیا۔ اور آجکل اس کے نظاّرے بھی عام ہیں۔ اچھّے خاصے مذہبی حُلْیے میں نظر آنے والے بے شمار افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ یعنی چہرے پر داڑھی، سر پر زُلفیں اور عمامہ شریف، سنّت کے مطابق لباس بلکہ بعض تو اچھّے خاصے دین کے مبلِّغ ہونے کے باوُجُود، حیاء کے مُعاملے میں سراسر محروم ہوتے ہیں۔ دَیور و بھابھی کے پردے کے مُعاملے میں قَطْعاً لا پرواہی بَرَت کر جھنَّم کے حقدار ٹھہرتے ہیں ایسے ''نیک نُما'' افراد کو کوئی درد بھرا دل رکھنے والا سمجھائے بھی تو ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکالدیتے ہیں۔ جب انکی بے تکلُّف دوستوں کے ساتھ گپ شپ کی منڈلیاں لگتیں اور محفلیں جمتی ہیں۔ تو ان میں بلاوجہ شادیوں اور اخلاق سے گری ہوئی شہوت افزا باتوں کی بھر مار ہوتی ہے، تیری شادی، میری شادی، فُلاں کی شادی وغیرہ ان غیر مقدّس محفِلوں کے عام مَوضُوعات ہوتے ہیں اور پھر اشاروں کِنایوں میں ایسی باتیں کر