Brailvi Books

باحیا نوجوان
26 - 64
محبوب عَزَّوَجَلَّ و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت کی طرف کیسے پھیرا جائے اور اسکو جہنَّم کی طرف دوڑے چلے جانے سے روک کر کس طرح جنّت کی سَمت لے جایا جائے ! آہ ! آہ !آہ!ایسا دَ ور آچکا ہے گو یا ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر مَعاذَ اللہ جہنَّم میں گرنا چاہتا ہے، جیسا کہ شادیوں میں دیکھا جاتا ہے کہ کسی کے پاس اگر رقم کم ہے تو صِرْف فلمی گانوں کی ریکارڈنگ پر گُزارا کرتا ہے، اور جس کے پاس رقم کچھ زیادہ ہے تووہ شادی کی بے حيائی سے بھر پور تقاریب کی مُووی بھی بنواتا ہے اور اس سے بھی زیادہ رقم والا فنکشن (Function) کا بھی اہتِمام کرتا ہے جس میں مرد و عورت مُوسیقی کی دُھنوں اور ڈھولک کے شور میں بے ڈھنگے پن سے ناچتے، گاتے ہیں تماشائی خوب اُودھم مچاتے، بیہودہ فِقرے کَستے ، مزید اس پر ہنستے، قہقہے لگاتے اور زور زور سے تالیاں اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ اس قسم کی حرکتوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ گویاشرم و حیاء کا عُنصُر بالکل خَتْم ہوچکا، نِجی مُعامَلات ہوں یا اجتمِاعی تقریبات، مَحَلّہ ہو یا با زار ہر جگہ شرم و حیاء کا قتلِ عام اور بے حيائی کی دھوم دھام