بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتَّھر ہیں۔'' رَحمتِ عالَم، نورِ مُجسَّم شاہِ بَنی آدم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ مُعظّم ہے: '' کُلُّکُمْ رَاعٍ وَّکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیّتِہٖ '' (صحيحُ البُخارِی ج۱ ص۳۰۹ حدیث ۸۹۳ دار الکتب العلمیۃ بيروت) یعنی ''تم سب اپنے مُتَعَلِّقين کے سردار و حاکِم ہو اور حاکِم سے روز قِیامت اسکی رَعِيَت کے بارے ميں پوچھا جائے گا۔'' اس حدیثِ پاک کے تحت شارحِ بخاری حضرت علامہ مولیٰنا مفتی محمدشریف الحق امجدی علیہ ر حمۃُ اللہِ القوی فر ما تے ہیں:مراد یہ ہے کہ جو کسی کی نگہبانی میں ہو ۔ اس طرح عوام سلطان اور حاکم کے، اولاد ماں باپ کے، تلامذہ اساتذہ کے، مریدین پیر کے رعایا ہوئے۔ یونہی جو مال زوجہ یا اولاد یا نوکر کی سپردگی میں ہو۔ اس کی نگہداشت ان پر واجب ہے۔ یہ یاد رہے '' نگہبانی میں یہ بھی داخِل ہے کہ رعایا گناہ میں مبتلا نہ ہو۔'' (نزھۃ القاری ج۲ ص ۵۳۰)