کے گانے ناچ وغیرہ دیکھ کر باوُجود قدرت کے نہ روکے وہ بے حیاء دیّوث ہے۔(مراٰۃ ج ۵ ص۳۳۷ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور)معلوم ہوا کہ باوُجُودقدرت اپنی زوجہ، ماں، بہنوں اور جوان بیٹیوں وغيرہ کو گلیوں، بازاروں، شاپنگ سینٹروں، مخلوط تفریح گاہوں میں بے پردہ گھومنے پھرنے، اجنبی پڑوسیوں ، نامحرم رشتے داروں، غیرمَحرم ملازِموں، چوکیداروں، ڈرائیوروں سے بے تَکلُّفی اور بے پردَگی سے منع (مَنْ۔ عْ) نہ کرنے والے سخت اَحْمق، بے حيا، دَیُّوث، جنّت سے محروم اور جہنَّم کے حقدار ہيں۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مُجَدِّدِ دين و ملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہيں: ''دَيُّوث سخت اَخْبَث فاسِق (ہے) اور فاسقِ مُعْلِن کے پيچھے نماز مکروہِ تحريمی، اسے امام بنانا حلال نہيں اور اسکے پيچھے نَماز پڑھنی گناہ اور پڑھی تو پَھيرنا واجِب۔'' (فتاوٰی رضويہ ج۶ ص۵۸۳) اگر مرد اپنی حیثيت کے مطابِق مَنْع کرتا ہے اور وہ نهيں مانیں تو اِس صورت ميں اس پر نہ کوئی الزام اور نہ وہ دَيُّوث۔