Brailvi Books

باحیا نوجوان
22 - 64
کريں وہ دَیُّوث ہيں، رَحمتِ عالميان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:
ثَلَاثَۃٌ قَدْ حَرَّمَ اللہُ عَلَیْہِمُ الْجَنَّۃَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْعَاقُّ وَالدَّیُّوْثُ الَّذِیْ یُقِرُّ فِیْ اَہْلِہِ الْخَبَثَ.(مُسنَد اِمام اَحمد بن حَنبل ج ۲ ص ۳۵۱ حدیث ۵۳۷۲ دارالفکربیروت )
یعنی تين شخص ہیں جن پراللہ عَزَّوَجَلَّ نے جنّت حرام فرما دی ہے ایک تو وہ شخص جو ہمیشہ شراب پئے ،دوسرا وہ شخص جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرے ،اور تیسرا وہ دیُّوث( یعنی بے حیا) کہ جو اپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے ۔
دیُّوث کسے کہتے ہیں
    مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیثِ پاک کے الفاظ '' وہ دَیُّوث(یعنی بے حیا) کہ جواپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے '' کہ تحت فرماتے ہیں:بعض شارِحین نے فرمایا کہ یہاں خَبَث سے مُراد زِنا ا ور اسبابِ زنا ہیں یعنی جو اپنی بیوی بچّوں کے زِنا یا بے حيائی، بے پردگی، اجنبی مردوں سے اِختلاط، بازاروں میں زینت سے پھرنا، بے حيائی
Flag Counter