حضورنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا:اے لوگو! یقینا دنیا تمہارے لئے جائے عمل ہے تواپنے اعمال کوبخوبی پوراکرو ۔اور تمہارا ایک انجام (موت)ہے تو اپنے انجام کی تیاری کرو۔مسلمان دو خوفوں کے درمیان رہتاہے (۱)ایک اُس مدت کاخوف جو گزر چکی،وہ نہیں جانتا کہ اللہ عزوجل نے اس کے بارے کیافیصلہ فرمایاہے۔اور(۲)دوسرے اس مدت کاخوف جو ابھی باقی ہے ،وہ نہیں جانتا کہ اللہ عزوجل اس اس کے ساتھ کیامعاملہ فرماتاہے پس بندے کوچاہے کہ دنیا میں بڑھاپاآنے سے قبل جوانی ہی آخرت کے لئے زادِ راہ اکٹھا کرلے ،کیونکہ تم آخرت کے لئے پیداکئے گئے ہواور دنیاتمہارے لئے بنائی گئی ہے ،قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! موت کے بعد(عبادت کے لئے)تھکنے کاکوئی موقع نہیں اوردنیا کے بعد جنت اوردوزخ کے علاوہ کوئی گھرنہیں میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اورتمہارے لئے استغفارکرتاہوں۔''