حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ بن زیدبن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سودینارکے عوض ایک مہینے کے لئے ایک باندی خریدی تومیں نے حضونبی اکرم ،رسول محتشم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا : ''کیا تم اُسامہ پر تعجب نہیں کرتے جو مہینے کاسودا کرتا ہے،یقینا ا ُسامہ لمبی اُمید والا ہے، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! جب میں اپنی آنکھیں جھپکتا ہوں تو یہ گمان کرتا ہوں کہ کہیں میری پَلکیں کھلنے سے پہلے ہی اللہ عزوجل میری روح قبض نہ فرما لے اور جب اپنی پلکیں اٹھاتا ہوں تویہ گمان ہوتا ہے کہ کہیں انہیں جھکانے سے پہلے ہی موت کاوعدہ نہ آجائے اور جب کوئی لقمہ منہ میں ڈالتا ہوں تو یہ گمان کرتاہوں کہ موت کااُچھو لگنے(يعنی موت آنے ) سے پہلے اسے نہ نگل سکوں گا، اے لوگو! اگر تم عقل رکھتے ہو تو اپنے آپ کومُردوں میں شمارکرو،کیونکہ تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ ہو کر رہے گا۔''راوی کہتے ہیں کہ حضرت