Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
70 - 82
رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کوکمزور کردے اور موت کے بعد آنے والی زندگی کے لئے نیک عمل کرے اورعاجزولاچار وہ ہے جو نفسانی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ عزوجل پر لمبی امیدیں رکھے ۔''
 (شعب الایمان،باب فی الزھدوقصرالامل،الحدیث:۱۰۵۴۶،ج۷،ص۳۵۰)
    حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضورنبی رحمت ،شفیع امت ،مالکِ جنت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے :'' سب سے زیادہ عقلمندودانا وہ مومن ہے جو موت کو کثرت سے یاد کرے اور اس کے لئے احسن طریقے پرتیاری کرے ،یہی (حقیقی) دانا لوگ ہیں۔''
 (المرجع السابق،الحدیث:۱۰۵۴۹،ص۳۵۱)
     حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ بن زیدبن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سودینارکے عوض ایک مہینے کے لئے ایک باندی خریدی تومیں نے حضونبی  اکرم ،رسول محتشم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا : ''کیا تم اُسامہ پر تعجب نہیں کرتے جو مہینے کاسودا کرتا ہے،یقینا ا ُسامہ لمبی اُمید والا ہے، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! جب میں اپنی آنکھیں جھپکتا ہوں تو یہ گمان کرتا ہوں کہ کہیں میری پَلکیں کھلنے سے پہلے ہی اللہ عزوجل میری روح قبض نہ فرما لے اور جب اپنی پلکیں اٹھاتا ہوں تویہ گمان ہوتا ہے کہ کہیں انہیں جھکانے سے پہلے ہی موت کاوعدہ نہ آجائے اور جب کوئی لقمہ منہ میں ڈالتا ہوں تو یہ گمان کرتاہوں کہ موت کااُچھو لگنے(يعنی موت آنے ) سے پہلے اسے نہ نگل سکوں گا، اے لوگو! اگر تم عقل رکھتے ہو تو اپنے آپ کومُردوں میں شمارکرو،کیونکہ تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ ہو کر رہے گا۔''راوی کہتے ہیں کہ حضرت
Flag Counter