(۱)حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خطبہ دیتے وقت ارشاد فرمایا کرتے تھے: ''اپنی جوانی پرنازاں خوبصورت چہروں والے کہاں گئے ؟۔۔۔۔۔۔کہاں گئے وہ بادشاہ جنہوں نے بڑے بڑے شہر تعمیرکئے اوران کی حفاظت کے لئے اونچی اونچی دیواریں بنائیں؟۔۔۔۔۔۔اور کدھرچلے گئے وہ لوگ جوجنگی معرکوں میں فتح اور غلبہ پاتے تھے ؟۔۔۔۔۔۔ان کے اجزاء بکھر گئے جب زمانے نے انہیں تباہ وبربادکردیا اور وہ قبروں کی تاریکی میں چلے گئے (تواے لوگو!)اپنی جانوں کو ہلاکت سے بچاؤ اور جلدی کرو۔''
(۲)امیر المؤمنین حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدناسلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وصیت کرتے ہوئے ارشادفرمایا:''یقینا اللہ عزوجل نے تمہارے لئے دنیاکو پھیلادیا ہے توتم اس میں سے بقدر ضرورت ہی حصہ لینا۔''
(۳)ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے والد حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ،اس وقت وہ مرض الموت میں مبتلاتھے جب حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے ان کا سانس سینے میں اٹکا ہوا دیکھا تو اس کی مثال اس شعرسے بیان فرمائی: