کوترک کردیتا ہے ،۔۔۔۔۔۔پہلی فرص میں طاعات وعبادات بجا لاتاہے،۔۔۔۔۔۔ اورمکمل اہتمام کے ساتھ اداکرتاہے ،۔۔۔۔۔۔اوریہ کہ حضورنبی ئمُکَرَّم،نُورِمُجسَّم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے نیکی کے کاموں میں جلدی کرنے کی بہت سی مثالیں قائم کی اوربیان فرمائی ہیں۔چنانچہ،
حضرت سیدناعقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مَیں نے مدینہ منورہ میں حضورنبی کریم ،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پیچھے عصر کی نماز پڑھی توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیر نے کے بعد جلدی سے اٹھے اورلوگوں کی گردنیں پھلانگ کراپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کے حجرے میں تشریف لے گئے ۔لوگ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اس جلدی کودیکھ کر گھبراگئے ،پھرنبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ان کے پاس تشریف لائے تولوگوں کواس عجلت سے متعجب دیکھ کرارشادفرمایا:''مجھے کچھ ''سونا''یادآگیاجوہمارے گھر میں تھامیں نے یہ ناپسندکیاوہ مجھے (یادالٰہی عزوجل سے) روکے تومیں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا ۔''