| الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی) |
تونگری اورمالداری ہو ،(۳) قناعت پسندی وطبیعت کانیک ہونا ایک ایسا (روحانی) سُروْرہے جس کے سبب اللہ عزوجل اپنے بندے کو اپنی اطاعت کی توفیق ،(عبادت کے لئے) اکتاہٹ سے پاک زندگی اورتھکاوٹ سے پاک جسم عطافرماتاہے اوراسے(دنیا کے) مہیب خطرات سے مامون کر دیتا ہے۔اورجب زندگی خدشات وخطرات سے محفوظ ہوجائے اورتنگی نہ رہے تو دل جِلاپاتا ہے اورنفس مطمئن ہوجاتا ہے اور ایساشخص نعمتوں سے مالامال ہوجاتا ہے ۔''
غِناء افضل ہے یافقر؟
اس مسئلہ میں تحقیق یہ ہے کہ نہ توکلی طورپرفقر(یعنی غریبی) کوغِنا(یعنی مالداری)پر فضیلت ہے اور نہ ہی غِناکلی طورپرفقرسے افضل ہے کیونکہ بہت سے اغنیاء ایسے ہیں کہ جن کومال ودولت اللہ عزوجل کی یاداور عبادت سے غافل نہیں کرتے اور کتنے ہی فقیر ایسے ہیں جن کو غربت نے عبادتِ الٰہی عزوجل سے دُورکررکھاہے ۔جبکہ بہت سے پاکدامن فقیرایسے بھی ہیں جواپنے لئے اللہ عزوجل کی تقسیم پرراضی ہیں اور کتنے ہی مالدار ایسے ہیں کہ مالداری نے انہیں اللہ عزوجل کی اطاعت سے دورکردیاہے۔بہرحال ہونا یہ چاہے کہ غربت میں بندہ صبرورضاکاپیکربنارہے اور مالداری میں اللہ عزوجل کا شکراوراس کی ثنابجالائے کیونکہ دنیاکی یہ چند روزہ زندگی ختم ہونے اورگزرجانے والی ہے۔
اعمالِ آخرت میں سُسْتی نہ کرو
مسلمان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ موت جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اس لئے عبادات کو جلدادا کرنے کے معاملہ میں حریص ہوتا ہے،۔۔۔۔۔۔کوتاہی