Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
63 - 82
 یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ۔'' توحضورنبی  رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''لیکن معاملہ ایسے نہیں،بے شک حقیقی تونگری دل کاتونگرہونا اورحقیقی فقر (یعنی مفلس ہونا )دل کافقرہے ۔''

    پھر حضورنبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے قریش کے ایک شخص کے بارے استفسار فرمایا:''اس کے متعلق تم کیاکہتے ہو؟'' میں نے عرض کی:''جب وہ کچھ طلب کرتاہے عطاکیاجاتاہے اورجب حاضرہوتاہے توعزت کے ساتھ بٹھایاجاتاہے ۔''

    پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے اہل صفہ کے ایک آدمی کے بارے استفسارفرمایا :'' کیا تم فلاں شخص کو پہچانتے ہو ؟''میں نے عرض کی : ''نہیں! یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم۔'' پس حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کے اوصاف بیان کرتے رہے اور اس کی تعریف کرتے رہے یہاں تک کہ میں اسے پہچان گیا۔تومیں نے عرض کی :'' جی ہاں! یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ۔'' ارشادفرمایا:''اُس کے بارے میں تم کیاکہتے ہو؟''میں نے عرض کی :''اہلِ مسجد (یعنی اہل صفہ) کے ایک مسکین وغریب شخص ہیں۔'' حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے فرمایا :''یہ اُس دوسرے جیسے زمین بھرسے افضل ہے ۔''میں نے عرض کی ـ:''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !کیا دوسرے کوعطاکی جانے والی (خوبیوں وغیرہ) میں سے کچھ بھی اس کونہ دیا جائے ؟''ارشادفرمایا : ''اگر اسے دیا جائے تو وہ اس کا اہل ہے اوراگراسے نہ دیا جائے تو اس کے لئے نیکی ہے۔''
(المستدرک للحاکم،کتاب الرقاق،باب فضائل اولیاء اللہ،الحدیث:۷۹۹۹،ج۵،ص۴۶۵)
Flag Counter