Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
60 - 82
کاموں کونہ چھوڑدے۔''
(المستدرک للحاکم،کتاب الرقاق،باب ان الصالحین یشددعلیھم،الحدیث:۷۹۶۹،ج۵،ص۴۵۴)
     پس تکالیف ومشقتوں کے اس بیابان کوسرکرنے کے بعدہی بندہ جنت میں داخل ہوسکتا ہے اورشہوات کوترک کرکے ہی دوزخ سے چھٹکارا پاسکتاہے ،کیونکہ اطاعت وفرماں برداری جنت میں پہنچاتی ہے اورگناہ و نافرمانی جہنم میں لے جاتی ہے اوربعض اوقات اطاعت اور معصیت ونافرمانی معمولی سی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔چنانچہ،

(۵)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنابلال بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:'' بندہ کوئی بات اللہ عزوجل کی خوشنودی کی کرتاہے اوروہ اس درجہ ومقام تک پہنچتی ہے جس کااس کوگمان بھی نہیں ہوتااوراللہ عزوجل اس کے سبب قیامت تک کے لئے اپنی رضاوخوشنودی لکھ دیتاہے ،اور کوئی بندہ اللہ عزوجل کی ناراضگی کاکلمہ منہ سے نکالتاہے اوروہ اس مقام تک پہنچتاہے جس کااسے گمان نہیں ہوتاتواللہ عزوجل اس کی بات پر قیامت کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے ۔''
(جامع الترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی قلۃالکلام،الحدیث:۲۳۱۹،ص۱۸۸۵)
(۶)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے شہنشاہِ خوش خِصال،صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ارشادفرماتے ہوئے سناکہ''بندہ کبھی کوئی بات ایسی کہہ دیتاہے جس کے سبب جہنم کی اتنی گہرائی میں گرتاہے جتنا مشرق اور مغرب کا در میانی فاصلہ ہے۔''
(صحیح مسلم،کتاب الزھد،باب حفظ اللسان،الحدیث:۷۴۸۱،ص۱۱۹۵)
Flag Counter