پس تکالیف ومشقتوں کے اس بیابان کوسرکرنے کے بعدہی بندہ جنت میں داخل ہوسکتا ہے اورشہوات کوترک کرکے ہی دوزخ سے چھٹکارا پاسکتاہے ،کیونکہ اطاعت وفرماں برداری جنت میں پہنچاتی ہے اورگناہ و نافرمانی جہنم میں لے جاتی ہے اوربعض اوقات اطاعت اور معصیت ونافرمانی معمولی سی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔چنانچہ،
(۵)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنابلال بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:'' بندہ کوئی بات اللہ عزوجل کی خوشنودی کی کرتاہے اوروہ اس درجہ ومقام تک پہنچتی ہے جس کااس کوگمان بھی نہیں ہوتااوراللہ عزوجل اس کے سبب قیامت تک کے لئے اپنی رضاوخوشنودی لکھ دیتاہے ،اور کوئی بندہ اللہ عزوجل کی ناراضگی کاکلمہ منہ سے نکالتاہے اوروہ اس مقام تک پہنچتاہے جس کااسے گمان نہیں ہوتاتواللہ عزوجل اس کی بات پر قیامت کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے ۔''