امام ابن حجرعسقلانی علیہ رحمۃاللہ القوی ،فتح الباری ،جلد۱۱،صفحہ ۲۷۳پراس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:''حدیث پاک میں آنے والے لفظِ ''مکارۃ''(یعنی تکالیف) سے مرادوہ اچھے یابرے اعمال ہیں جن کاایک مسلمان مکلف کومجاہدہ نفس کے لئے کرنے یا چھوڑنے کاحکم دیاگیاہے جیسے عبادات کی مکمل ادائیگی اوران پرمحافظت اختیارکرنااوراپنے قول اورعمل کے ذریعے ممنوعات شرعیہ سے بچنا۔ اوراچھے اعمال بجالانے اوربرے اعمال ترک کرنے پرلفظِ''مکارۃ''(یعنی تکالیف) کا اطلاق اس لئے کیا گیاہے کہ عبادات کی ادائیگی اورگناہوں سے بچنے میں عامل کومشقت اورصعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہيں اور ان میں ایک مصیبت پر صبرکرنااورحکم الٰہی عزوجل کے سامنے سرِتسلیم خم کرنا بھی ہے۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزیدفرماتے ہیں:'' اور'' شہوات'' سے مرادوہ دنیاوی امورہیں جن کے ذریعے لذّت حاصل کی جاتی ہے خواہ شریعت نے اس سے بلاواسطہ منع کیاہویااس کے کرنے سے احکاماتِ الٰہی عزوجل میں سے کسی حکم کاترک لازم آتاہو۔نیزمشتبہ (جن میں شک ہو ) اور وہ جائزومباح کام جن پر عمل کے باعث حرام میں پڑنے کا خوف ہو، سب اس (شہوات) میں داخل ہیں۔چنانچہ،
(۴)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عطیہ بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ئاکرم ، نورِمجسم ،رسول محتشم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے :'' آدمی اس وقت تک متقی وپرہیز گار نہیں ہو سکتاجب تک ناجائزکاموں سے بچنے کے لئے جائزومباح