Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
57 - 82
 ''جنت تم سے اس سے بھی زیادہ قریب ہے جتناتمہارے جوتے کاتسمہ ،جوتے سے قریب ہے اوردوزخ بھی اسی طرح ہے (یعنی بہت زیادہ قریب ہے )ہاں!یہ بات ہے کہ جنت کو تکالیف سے اوردوزخ کو شہوتوں اور لَذّتوں سے ڈھانپ دیاگیاہے۔''یعنی راہِ جنت میں مصائب وتکالیف ہیں جبکہ شہوات دوزخ میں پہنچاتی ہیں۔
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب حجبت الناربالشھوات،الحدیث:۶۴۸۸،ص۵۴۴)
(۲)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے : ''جہنم کو نفسانی شہوات سے ڈھانپ دیاگیاہے اورجنت کوتکالیف سے ڈھانپ دیاگیاہے۔''
 (المرجع السابق،الحدیث:۶۴۸۷)
(۳)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رحمت کونین ،دکھی دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے :''جب اللہ عزوجل نے جنت اور دوزخ کو پیدا کیا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو جنت کی طرف بھیجا اور ارشاد فرمایا: '' جنت اوراس کی اُن نعمتوں کودیکھو جومیں نے اہل جنت کے لئے تیارکی ہیں۔'' حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشادفرماتے ہیں:''توجبرائیل (علیہ ا لسلام )جنت میں آئے ،جنت اوراہل جنت کے لئے اللہ عزوجل کی تیارہ کردہ نعمتیں دیکھ کراللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضرہوئے اور عرض کی:''تیرے عزت وجلال کی قسم!جو بھی اس جنت کے بارے میں سنے گا وہ ضروراس میں داخل ہونے کی کوشش کریگا ۔''پس اللہ عزوجل نے حکم فرمایااورجنت کو مشقتوں اورتکالیف سے ڈھانپ دیاگیا۔''

    پھر اللہ عزوجل نے جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا:''دوبارہ جاؤجنت
Flag Counter