Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
54 - 82
تم توبادشاہ ہو:
    صحیح مسلم شریف میں ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ایک شخص نے عرض کی :'' کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں ؟''تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا:''کیا تمہاری بیوی ہے جس کے ساتھ تم رہتے ہو؟''عرض کی:''ہاں ۔'' پوچھا:'' کیا تیرے پاس رہنے کی جگہ ہے؟''عرض کی:''ہاں۔''ارشادفرمایا:'' تم تواغنیاء میں سے ہو ۔''اس نے کہا:'' میراایک خادم بھی ہے۔''ارشاد فرمایا:'' پھر توتم بادشاہ ہو ۔''
(المرجع السابق،الحدیث:۷۴۶۲،ص۱۱۹۶)
ابن آدم کاواویلا:
    دنیامیں مؤمن کانفس اس وقت خوش ہوتا ہے جب وہ اس بات کی حقیقت کوجان لے کہ اس کا حقیقی مال وہ ہے جواس نے کھاکرختم کردیا،جو پہن کربوسیدہ کردیا اور جسے راہِ خدا عزوجل میں صدقہ کرکے آخرت کے لئے محفوظ کرلیا اور اس کے علاوہ باقی سارامال وہ عنقریب اپنے ورثاء کے لئے چھوڑجائے گا۔چنانچہ،

(۱)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا مطرف کے والدرضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ میں حضورِ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سورہ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُر(پ۳۰،تکاثر)کی تلاوت فرمارہے تھے۔ چنانچہ،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''ابن آدم کہتا ہے:'' میرامال میرامال۔'' پھرفرمایاکہ اللہ عزوجل فرماتا: ''اے ابن آدم! تیرا مال تو وہی ہے جو تونے کھاکرختم کردیا،یاجوپہن کربوسیدہ کردیا یا وہ جوصدقہ کرکے آخرت کے لئے بھیج دیا۔''
(المرجع السابق،الحدیث:۷۴۲۰،ص۱۱۹۱)
Flag Counter