| الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی) |
غلاظت بن جاتاہے دنیابھی فانی ہوجائے گی) جب تم میں سے کوئی اپنے گھر کے پچھواڑے کی طرف(پیشاب کرنے )جاتا ہے تو اس کی گندگی کی بدبو کی وجہ سے اپنے ناک کو پکڑ لیتا ہے ۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۶۱۱۹،ج۶،ص۲۴۸)
(۷)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے حبیب،حبیبِ لبیب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمان عبرت نشان ہے :''دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حرص اور حب جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔''
(جامع الترمذی ،کتاب الزھد،باب حدیث ماذئبان جائعان،الحدیث:۲۳۷۶،ص۱۸۹۰)
نفسِ مومن دنیا سے مطمئن کیوں؟
دنیامیں بندہ مؤمن کادل اس وقت تک خوش اورمطمئن رہتا ہے جب تک اس کی نظر اپنے سے نچلے لوگوں (کے مال ودولت)پرہوتی ہے اور جب اپنے سے اوپر والوں کو دیکھتاہے تو اس کی زندگی اَجیرن اور بدمزہ ہو جاتی ہے اور اس کے ایمان کی سلامتی خطرے میں پڑجاتی ہے ۔چنانچہ،
حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے: ''(دنیا کے معاملے میں)اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو اور اپنے سے اوپر والوں کو مت دیکھو،یہ تمہارے لئے بہترین نصیحت ہے تاکہ تم اللہ عزوجل کی نعمتیں نہ کھو بیٹھو۔''(صحیح مسلم،کتاب الزھد،باب الدنیاسجن......الخ،الحدیث:۷۴۳۰،ص۱۱۹۱)