| الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی) |
کے پاس سے گزرے جس کو اس کے مالکوں نے گھرسے نکال دیا تھا ،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' کیا تم خیال کرتے ہوکہ یہ بکری کابچہ اپنے مالکوں کی نظر میں بے وقعت تھا؟''صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی :''جی ہاں! یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا : ''جس طرح یہ خارش زدہ بچہ اپنے مالکوں کے نزدیک حقیر ہے اللہ عزوجل کے نزدیک دنیا اس سے بڑھ کرحقیر ہے ۔''
(المسندللامام احمدبن حنبل،ج۳،الحدیث:۸۳۷۲،ص۲۴۰)
(۵)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناسہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اگر اللہ عزوجل کے نزدیک دنیا کی حیثیت مچھرکے پَر کے برابر بھی ہوتی تووہ اس دنیاسے کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی پینے کونہ دیتا۔''
(جامع الترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی ھوان الدنیا...الخ،الحدیث:۲۳۲۰،ص۱۸۸۵)
(۶)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدناسلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں ایک گروہ حاضر ہواتو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان سے استفسار فرمایا: ''کیا تمہارے پاس کھانا ہوتاہے ؟''انہوں نے عرض کی :''جی ہاں !یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ۔''پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پوچھا :''کیا تمہارے پاس پانی بھی ہے ؟''انہوں نے عرض کی :''جی ہاں ۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا :''کیا تم اُسے ٹھنڈابھی کرتے ہو؟انہوں نے عرض کی : ''جی ہاں۔'' پھر ارشادفرمایا:''ان دونوں(یعنی کھانے اورپانی) کاانجام بھی دنیا کے انجام کی طرح ہے (کہ جیسے کھانااورپانی