حضورنبی اکرم ،رسولِ محتشم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین دنیا میں زہد(یعنی دنیاسے کنارہ کشی)اختیارکئے رہے کیونکہ دنیا ان کا دائمی گھر نہیں تھایقینا حقیقی گھر تو آخرت ہے اورحضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے لئے دنیا کے بارے میں بہت سی مثالیں بیان فرمائیں ۔چنانچہ،
(۱)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولوں کے سالار، دوعالم کے مالک ومختار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایک چٹائی پرسوگئے ، جب اٹھے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پہلو مبارک پرچٹائی کے نشان تھے ،ہم نے عرض کی :''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !اگرہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے نرم بستربچھادیتے ۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''مجھے دنیا سے کوئی غرض نہیں ،مَیں دنیامیں اُس مسافر کی طرح ہوں جو ایک درخت کے سائے میں (کچھ دیر ) آرام کرتا ہے اور پھر کوچ کرجاتا ہے اوراس درخت کو چھوڑ دیتا ہے۔''