Brailvi Books

الزھد وقصرالامل (دُنیاسے بے رغبتی اوراُمیدوں کی کمی)
48 - 82
صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ان دنوں ہم آج کی بنسبت بہتر ہوں گے کیونکہ عبادت کے لئے( زیادہ) فارغ ہوں گے اورہم تفکرات کی تکلیف سے آزادہوں۔'' تو حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا: ''نہیں۔تم اُس دن کی بنسبت آج بہترحال میں ہو۔''
(جامع الترمذی،کتاب صفۃالقیامۃ،باب حدیث علی.........الخ،الحدیث:۲۴۷۶،ص۱۹۰۱)
(۴)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
    دنیاسے کنارہ کشی اختیارکرنے والوں میں سے ایک حضرت سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔چنانچہ،

     حضرت سیدناابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمارتھے کہ حضرت سیدناامیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روتے ہوئے پایا، حضرت سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا:'' اے ماموں جان !آپ کیوں روتے ہیں ؟کیا درد نے آپ کو پریشان کر رکھا ہے یا دنیا کی حرص ہے ۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :''ہرگز نہیں بلکہ حضورنبی کریم ،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہم سے ایک عہد لیا تھا جسے ہم نے پورا نہ کیا۔'' حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :''وہ کون سا عہد تھا؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :''میں نے حضور نبی رحمت ،شفیع امت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ''مال جمع کرنے کے مقابلے میں ''ایک خادم ''اور راہِ خداعزوجل میں سفر کے لئے ''ایک سواری ''کافی ہے ۔'' (پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا)اور آج میں اپنے پاس مال جمع پاتاہوں ۔''
Flag Counter